فیلڈ مارشل جناب سید عاصم منیر صاحب کے نام کھلا خط
فیلڈ مارشل جناب سید عاصم منیر صاحب کے نام کھلا خط
السلام علیکم!
ہر شہری آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت ملک سے وفاداری کا پابند ہے۔ جس کی بے اعتنائی پر نشاندہی ہر شخص پر لازم ہے۔
تن بے روح سے بے زار ہے حق
خدائے زند و زندوں کا خدا ہے
خدائے زند و زندوں کا خدا ہے
جنرل صاحب!
فوج کے ادارے کی مضبوطی اور نظم و نسق کی وجہ ادارے کے اندر ” قانون کی حکمرانی” ہے۔ جس وجہ سے آپ طاقتور ترین ہیں ۔ آپ اس وقت دفاعی نہیں بلکہ ملکی معاملات کے نگہبان ہیں۔ جس وجہ سے یہ لازم ہو گیا ہے کہ سویلین اداروں میں بھی قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے ۔ نجکاری کا عمل انتظامی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ منافع میں چلنے والے ادارے دنوں یا مہینوں میں نہیں بلکہ سالوں بعد نا کام ہوئے۔ ارباب اختیار نے آنکھیں بند کیے رکھیں ؟۔ احتساب کا طریقہ اپنایا اورنہ ہی میرٹ پر چلے اور اب حکومت PIA کی نجکاری کے بعد خوشیوں کے شادیانے بجارہی ہے۔ آپ غور کریں کہ جب واپڈا کی نجکاری کر کے کمپنیاں بنائی گئیں۔ تو یہ کمپنیاں بالواسط یا بلا واسطہ طور پران لوگوں کی تھیں جنہوں نے اس ادارے کو کمزور کیا ۔ IPPS نے قدرتی ملکی وسائل کو تکنیک کا تڑکا لگا کر شہریوں کو بے دردی سے لوٹا۔ جب خون نچوڑ نے کا عمل شدید ہوا تو لوگوں کی یخ و پکار جماعت اسلامی کے ذریعے آپ تک پہنچی تو آپ کی مداخلت کی وجہ سے لوگوں کو کسی حد تک سکون ملا۔ مگر پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری ابھی بھی مسائل کا شکار ہے۔
کمانڈ رصاحب اس میں کوئی شک نہیں کہ سویلین اداروں کی کمزوری کی وجہ سے انہیں طاقتور ادارے بلیک میل کر کے مفادات حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر یہ غیر فطری حل ہے ۔ جو معاشرہ کو غیر متوازن کر دیتا ہے۔ غیر جانبدارانہ جائزہ یہ ثابت کرے گا کہ طبقاتی تشدد اور ماردھاڑ عام ہے۔ صرف پنجاب میں CCD نے 1200 سے زائد لوگ جان سے ماردیے ہیں۔ جن میں سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ فیصلے وہ لوگ کر رہے ہیں جنہیں قانون کے سامنے جوابدہ ہونے کا کوئی خوف نہیں۔
خفیہ کاروائیاں گھٹن اور خوف کو جنم دیتی ہیں، ان کا تسلسل خانہ جنگی کی کیفیت بھی پیدا کرسکتا ہے۔ اس سے پیداواری صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایسی کاروائیاں زناء کے مترادف ہوتی ہیں۔ مگر درست فیصلوں کا نکاح کی طرح سے ہمیشہ اعلان اور نوٹس ہوتا ہے۔ خوفزدہ صاحب حیثیت لوگ پیارے ملک کی قدرتی خوبصورتیوں کو چھوڑ کر بیرون ملک جارہے ہیں۔ مگر ایسی صورتحال کیوں ہے؟۔ حفاظت جب باغ کی باغ کے مالی نہیں کرتے تو موسم بہاروں کے بھی ہریالی نہیں کرتے
چیف صاحب!
جدید دور کی جنگ صرف اسلحہ کے زور پر ہی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی طور پر بھی لڑی جارہی ہے۔ ان محاذوں پر انڈیا کو شکست دینا بھی ہمارا قومی ہدف ہونا چاہیے۔ جس سے عام شہری کی فلاح و بہبود خود بخود ہو جائے گی اور یہ ضروری بھی ہے کیونکہ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک اپنے شہریوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں اور تمام مذاہب انسانیت کے احترام کا درس دیتے ہیں۔ اداروں کی مضبوطی موثر قوانین کے بغیر نہیں لائی جاسکتی۔ جس کے لیے مخلص لوگ درکار ہوں گے۔ جو اب ڈھونڈ نے پڑیں گے ۔ کیونکہ رائج الوقت سیاسی نظام میں خوشامدی لوگوں کی بھر مار ہے۔ جن کی وجہ سے ادارے انحطاط کا شکار ہیں جو کبھی بھی سچ کو سامنے نہیں آنے دیں گے۔
پھر سامراجی نظام کی پیدا کی ہوئی خرابیاں اور تنگ نظریاں مثلاً خود غرضی ، غلامی، احساس کمتری ، خوشامد پسند طرز زندگی ، امتیازی برتاؤ، حسد، حرص وغیرہ سے معاشرے کو پاک کرنے کے لیے قانون سازی ضروری ہے۔ بیمار نظام کو تندرست کرنے کے لیے علاج ہونا چاہیے۔ غصہ اور ناراضگی تو خرابی بڑھائے گا۔ ہمارا انصاف کا نظام بھی مکمل طور پر تباہ ہے۔ وکلاء دکانداریاں اور حجر نوکریاں کرنے میں مصروف ہیں ۔ حجز کو مساوات کے اصولوں کے برعکس مراعات دی گئی ہیں۔ انہوں نے خود اپنے لیے پلاٹ اور پنشن بڑھانے کے آرڈر بھی کیے ۔ یہ اب کرسمس کے کیک کاٹنے میں مصروف ہیں۔ انہیں انصاف کی فراہمی اور اس سلسلے میں رکاوٹیں دور کرنے سے متعلق کوئی دلچسپی نہیں ۔
آخر لوگوں کے قیمتی ٹیکس کا پیسہ کٹھ پتلی لوگوں کی تزئین و آرائش کے لیے کیوں استعمال ہو؟ بے رحم احتساب کا سلسلہ شروع ہونے میں کیا امر مانع ہے؟ آئین ریاست کی سب سے زیادہ قابل قدر دستاویز ہوئی ہے جو ریاست اور لوگوں کے عمرانی معاہدہ کوظاہر کرتی ہے۔ کیا آج تک کوئی بھی آئین مرتب کرتے ہوئے لوگوں کو رائے دینے کا موقع دیا گیا ؟ آمرانہ طور پر مسلط کیا جانے والا آئین تو طبقاتی تفریق کو جنم دیتا ہے اور چندلوگوں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ ملک کو آئینی ترمیموں کی نہیں بلکہ “حقیقی آئین” کی ضرورت ہے۔ جولوگوں کی امنگوں کا تر جمان ہو۔ جو پاکستان کے قدرتی حسن میں اضافہ کرے اور اسے پر کشش ملک بنائے جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے جنت نظیر ہو۔ لہذا مخلص لوگوں پر مشتمل تھنک ٹینک بنایا جائے جو لگا تار موثر قوانین بنائے اور آپ ان کا نفاذ کرائیں۔
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں
تیری رہبری کا سوال ہے
تیری رہبری کا سوال ہے
خیر اندیش
ریاض حنیف راہی
CEO جیورسٹ فاؤنڈیشن آف پاکستان ASC
0333-7436493
03-01-2026
